Nikaah and Janaaza!

*Nikaah and janaaza…*
*نکاح اور جنازہ*

The _difference_ between a *wedding* and a *funeral* beautifully captured in a _poem_ called :
*farq sirf itna sa tha*

شادی اور جنازہ میں کیا فرق ہوتا ہے ۔ایک نظم میں خوبصورتی کا ساتھ منظر کشی کی گئی ہے ۔
*فرق صرف اتنا سا تھا*

teri *doli* uthi,
meri *mayyat* uthi,
تیری ڈولی اٹھی
میری میت اٹھی

phool _tujh_ par bhi barse,
phool _mujh_ par bhi barse,
*farq sirf itna sa tha….*

پھول تجھ پہ برسے،
پھول مجھ پر بھی برسے
فرق صرف اتنا سا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔

tu _saj_ gayi,
mujhe _sajaya_ gaya..
تو سج گئی
مجھے سجایا گیا

_tu_ bhi ghar ko chali,
_main_ bhi ghar ko chala,
*farq sirf itna sa tha….*
تو بھی گھر کو چلی
میں بھی گھر کو چلا
فرق صرف اتنا سا تھا

tu _uth_ ke gayi,
mujhe _uthaya_ gaya…
تو اٹھ کے گئی
مجھے اٹھایا گیا

*mehfil* wahan bhi thi,
*log* yahan bhi thay,
*farq sirf itna sa tha….*
محفل وہاں بھی تھی
لوگ یہاں بھی تھے
فرق صرف اتنا سا تھا

unka _hasna_ wahan,
inka _rona_ yahan…
ان کو ہنسنا وہاں
ان کو رونا یہاں

*qazi* udhar bhi tha,
*moulvi* idhar bhi tha,
قاضی ادھر بھی تھا
مولوی ادھر بھی تھا۔

do bol _tere_ padhe,
do bol _mere_ padhe,
tera *nikaah* padha,
mera *janaaza* padha,
*farq sirf itna sa tha…*
دو بول تیرے پڑھے
دو بول میرے پڑھے
تیرا نکاح پڑھا
میرا جنازہ پڑھا
فرق صرف اتنا سا تھا۔

tujhe *apnaya* gaya,
mujhe *dafnaaya* gaya…
Mout ki Fikar
Na karta tha”
تجھے اپنایا گیا
مجھے دفنایا گیا
موت کی فکر نہ کرتا تھا۔۔۔۔

Gunah ko Gunah
Na smajhta tha”
گناہ کو گناہ نہ سمجھتا تھا

DiL chahta tha k
Padhun Namaz”
دل چاہتا تھا کہ پڑھوں نماز

par Masjid tak
Jism na le jata tha”
پر مسجد تک، جسم نہ لے جاتا تھا۔

Duniya ki Ronaq
mein Magan tha”
دنیا کی رونق میں مگن تھا۔

Waqt Dosti me
Barbad krta tha”

وقت دوستی میں برباد کرتا تھا۔

Phir 1 Din achank
Andhera chaa giya”
پھر ایک دن اچانک اندھیرا چھا گیا

Aankh khuli to Khud
ko Qabar mein paya”
آنکھ کھلی تو خود کو قبر میں پایا

Phir ALLHA ne pucha
k kya le kr aaya”
پھر اللہ نے پوچھا، کہ کیا لے کر آیا۔

Ghar jana chaha
lekin ja na paya”
گھر جانا چاہا لیکن جا نہ پایا۔

Qabar ki Tanhai
ne bohat daraya”

قبر کی تنہائی نے بہت ڈرایا ۔

Aawaz di Apno ko
to koi na aaya”
آواز دی اپنوں کو تو کوئی نہ آیا
*WARNING*
Waqt hai sambhal ja?
وقت ہے سنبھل جا؟

Quran ka ek ruku rozana parhne se saal mein 3 Quran mukammal ho jate hain?

قرآن کا ایک رکوع روزانہ پڑھنے سے سال میں تین قرآن مکمل ہو جاتے ہیں ۔

Jb aap is msg ko 4wrd karne lagein gey to Shaitaan aap ko rokega ?
جب آپ اس پیغام کو آگے بھیجنے لگیں گے تو شیطان آپ کو روکے گا !

????????
Let’s C what will U do..
یہ سوالیہ نشان ہے …….؟

دیکھتے ہیں، آپ کیا کرتے ہیں ؟

======================

Dunya and Akharat!

السلام علیکم و رحمةالله وبركاته…..

آخرت اور دنیا کی مثال گندم اور بھوسے جیسی ھے۔ جس طرح گندم اگانے والے کو بھوسہ مفت مل جاتا ھے, اسی طرح آخرت کمانے والے کو دنیا مفت مل جاتی ھے۔ جو اللہ کا ھوگیا اللہ اس کا ھو گیا اور جس کا اللہ ھوگیا سب کچھ اسی کا ھو گیا۔

کثرت مت مانگئے، برکت مانگئے۔ کثرت آزمائش ھے، جبکہ برکت ایک نعمت ھے ۔ کثرت نصیب ھے اور برکت خوش نصیبی ھے۔
کثرت آپ کا اندازہ ھے کہ اس قدر ھو تاکہ آپ کی ضروریات پوری ھوں اور برکت اللہ تعالی کی ضمانت ھے کہ جو بھی ملے اس میں ضروریات لازماً پوری ھوں۔

شکر ھی وہ شے ھے جو رحمت خداوندی کی کنجی ھے۔ کثرت والے حساب میں پھنس گئے،اور برکت والے پار لگ گئے!

دعا ھے کہ آپ جن دعاؤں کیلیۓ ھاتھ اٹھائیں، فرشتے فورا” انہیں عرش الہی تک لے جائیں، اور آپ کے ھاتھ گرانے سے پہلے وہ دعائیں قبول ھو جائیں!
آمین یا رب العالمین۔

Education System!

آپ حیران ہوں گے میٹرک کلاس کا پہلا امتحان برصغیر پاک و ہند 1858ء میں ہوا اور برطانوی حکومت نے یہ طے کیا کہ بر صغیر کے لوگ ہماری عقل سے آدھے ہوتے ہیں اس لیے ہمارے پاس ” پاسنگ مارکس ” 65 ہیں تو بر صغیر والوں کے لیے 32 اعشاریہ 5 ہونے چاہئیں۔ دو سال بعد 1860ء میں اساتذہ کی آسانی کے لیے پاسنگ مارکس 33 کردیے گئے اور ہم 2018 میں بھی ان ہی 33 نمبروں سے اپنے بچوں کی ذہانت کو تلاش کرنے میں مصروف ہیں۔

جاپان کی مثال لے لیں تیسری جماعت تک بچوں کو ایک ہی مضمون سکھا یا جاتا ہے اور وہ ” اخلاقیات ” اور ” آداب ” ہیں۔ حضرت علیؓ نے فرمایا “جس میں ادب نہیں اس میں دین نہیں “۔ مجھے نہیں معلوم کہ جاپان والے حضرت علیؓ کو کیسے جانتے ہیں اور ہمیں ابھی تک ان کی یہ بات معلوم کیوں نہ ہو سکی۔ بہر حال، اس پر عمل کی ذمہ داری فی الحال جاپان والوں نے لی ہوئی ہے۔ ہمارے ایک دوست جاپان گئے اور ایئر پورٹ پر پہنچ کر انہوں نے اپنا تعارف کروایا کہ وہ ایک استاد ہیں اور پھر ان کو لگا کہ شاید وہ جاپان کے وزیر اعظم ہیں۔ یہ ہے قوموں کی ترقی اور عروج و زوال کا راز۔

اشفاق احمد صاحب کو ایک دفعہ اٹلی میں عدالت جانا پڑا اور انہوں نے بھی اپنا تعارف کروایا کہ میں استاد ہوں وہ لکھتے ہیں کہ جج سمیت کورٹ میں موجود تمام لوگ اپنی نشستوں سے کھڑے ہوگئے اس دن مجھے معلوم ہوا کہ قوموں کی عزت کا راز استادوں کی عزت میں ہے ۔ آپ یقین کریں استادوں کو عزت وہی قوم دیتی ہے جو تعلیم کو عزت دیتی ہے اور اپنی آنے والی نسلوں سے پیار کرتی ہے۔ جاپان میں معاشرتی علوم ” پڑھائی” نہیں جاتی ہے کیونکہ یہ سکھانے کی چیز ہے اور وہ اپنی نسلوں کو بہت خوبی کے ساتھ معاشرت سکھا رہے ہیں۔ جاپان کے اسکولوں میں صفائی ستھرائی کے لیے بچے اور اساتذہ خود ہی اہتمام کرتے ہیں، صبح آٹھ بجے اسکول آنے کے بعد سے 10 بجے تک پورا اسکول بچوں اور اساتذہ سمیت صفائی میں مشغول رہتا ہے۔

دوسری طرف آپ ہمارا تعلیمی نظام ملاحظہ کریں جو صرف نقل اور چھپائی پر مشتمل ہے، ہمارے بچے ” پبلشرز ” بن چکے ہیں۔ آپ تماشہ دیکھیں جو کتاب میں لکھا ہوتا ہے اساتذہ اسی کو بورڈ پر نقل کرتے ہیں، بچے دوبارہ اسی کو کاپی پر چھاپ دیتے ہیں، اساتذہ اسی نقل شدہ اور چھپے ہوئے مواد کو امتحان میں دیتے ہیں، خود ہی اہم سوالوں پر نشانات لگواتے ہیں اور خود ہی پیپر بناتے ہیں اور خود ہی اس کو چیک کر کے خود نمبر بھی دے دیتے ہیں، بچے کے پاس یا فیل ہونے کا فیصلہ بھی خود ہی صادر کردیتے ہیں اور ماں باپ اس نتیجے پر تالیاں بجا بجا کر بچوں کے ذہین اور قابل ہونے کے گن گاتے رہتے ہیں، جن کے بچے فیل ہوجاتے ہیں وہ اس نتیجے پر افسوس کرتے رہتے ہیں اور اپنے بچے کو ” کوڑھ مغز ” اور ” کند ذہن ” کا طعنہ دیتے رہتے ہیں۔

آپ ایمانداری سے بتائیں اس سب کام میں بچے نے کیا سیکھا، سوائے نقل کرنے اور چھاپنے کے؟ ہم 13، 14 سال تک بچوں کو قطار میں کھڑا کر کر کے اسمبلی کرواتے ہیں اور وہ اسکول سے فارغ ہوتے ہی قطار کو توڑ کر اپنا کام کرواتے ہیں، جو جتنے بڑے اسکول سے پڑھا ہوتا ہے قطار کو روندتے ہوئے سب سے پہلے اپنا کام کروانے کا ہنر جانتا ہے ۔ ہم پہلی سے لے کر اور دسویں تک اپنے بچوں کو ” سوشل اسٹڈیز ” پڑھاتے ہیں اور معاشرے میں جو کچھ ہورہا ہے وہ یہ بتانے اور سمجھانے کے لیے کافی ہے کہ ہم نے کتنا ” سوشل ” ہونا سیکھا ہے؟ اسکول میں سارا وقت سائنس ” رٹتے ” گزرتا ہے اور آپ کو پورے ملک میں کوئی ” سائنس دان ” نامی چیز نظر نہیں آئے گی کیونکہ بدقسمتی سے سائنس ” سیکھنے ” کی اور خود تجربہ کرنے کی چیز ہے اور ہم اسے بھی ” رٹّا” لگواتے ہیں۔

ہمارا خیال ہے کہ اسکولز کے پرنسپل صاحبان اور ذمہ دار اساتذہ اکرام سر جوڑ کر بیٹھیں اس ” گلے سڑے ” اور ” بوسیدہ ” نظام تعلیم کو اٹھا کر پھینکیں، بچوں کو ” طوطا ” بنانے کے بجائے ” قابل ” بنانے کے بارے میں سوچیں۔

Helping Others!

*نہ مرغا اماں کے ہاتھ پر ٹھونگ مارتا نہ ذلیل ہوتا..*

*میں نے فخریہ انداز میں بابا جی سے کہا کہ میرے پاس اچھا بینک بیلنس ہے، دو گاڑیاں ہیں، بچے انگریزی اسکول میں پڑھتے ہیں۔*
*عزت، مرتبہ، ذہنی سکون، الغرض دنیا کی ہر آسائش مجھے میسر ہے۔*

*بابا نے نظر بھر کر مجھے دیکھا اور بولے:*
*”معلوم ہے یہ کرم اس لیے ہوا کہ تو نے اللہ کے بندوں کو ٹھونگیں مارنا چھوڑ دیں۔”*

*میں نے وضاحت چاہی۔ بابا کہنے لگے کہ میری اماں نے ایک اصیل ککڑ پال رکھا تھا۔ اماں کو اس مرغے سے خصوصی محبت تھی۔*

*اماں اپنی بُک (مٹھی) بھر کر مرغے کی چونچ کے عین نیچے رکھ دیا کرتی تھیں، ککڑ چونچ جھکاتا اور جھٹ پٹ دو منٹ میں پیٹ بھر کر مستیوں میں لگ جاتا۔*
*میں روز یہ ماجرا دیکھا کرتا اور سوچتا کہ یہ ککڑ کتنا خوش نصیب ہے۔ کتنے آرام سے، بغیر محنت کئے، اسے اماں دانے ڈال دیتی ہیں۔*

*ایک روز میں صحن میں بیٹھا پڑھ رہا تھا کہ حسب معمول اماں آئیں اور دانوں کی بُک بھر کر مرغے کی طرف بڑھیں۔ اماں نے جیسے ہی مٹھی آگے کی، مرغے نے اماں کے ہاتھ پر ٹھونگ (چونچ) مار دی۔ اماں نے تکلیف سے ہاتھ کو جھٹکا تو دانے پورے صحن میں بکھر گئے۔*

*اماں ہاتھ سہلاتی اندر چلی گئیں اور ککڑ (مرغا) جو ایک جگہ کھڑا ہو کر آرام سے پیٹ بھرا کرتا تھا، اب وہ پورے صحن میں بھاگتا پھر رہا تھا۔ کبھی دائیں جاتا کبھی بائیں، کبھی شمال تو کبھی جنوب۔ سارا دن مرغا بھاگ بھاگ کر دانے چگتا رہا۔ تھک بھی گیا اور اس کا پیٹ بھی نہیں بھرا۔*

*بابا نے کچھ توقف کے بعد پوچھا، بتاؤ مرغے کے ساتھ ایسا کیوں ہوا؟*

*میں نے فٹ سے جواب دیا: نہ مرغا اماں کے ہاتھ پر ٹھونگ مارتا نہ ذلیل ہوتا*۔ *بابا نے کہا: بالکل ٹھیک ۔*

*یاد رکھنا اگر اللہ کے بندوں کو حسد، گمان، تکبر، تجسس، غیبت اور احساس برتری کی ٹھونگیں مارو گے تو اللہ تمھارا رزق مشکل کردے گا؛ اور اس اصیل ککڑ کی طرح مارے مارے پھرو گے۔*

*تو نے اللہ کے بندوں کو ٹھونگیں مارنا چھوڑدیں، رب نے تیرا رزق آسان کر دیا۔ بابا عجیب سی ترنگ میں بولے،*
*’’پیسہ، عزت، شہرت، آسودگی حاصل کرنے اور دکھوں سے نجات کا آسان راستہ۔”*
* سن لے:*
*”اللہ کے بندوں سے محبت کرنے والا، ان کی تعریف کرنے والا، ان سے مسکرا کر بات کرنے والا اور دوسروں کو معاف کرنے والا، کبھی مفلس نہیں رہتا۔ آزما کر دیکھ لو۔ تو بندوں کی محبت کے ساتھ ساتھ شکر کے آنسو بھی اپنی منزل میں شامل کرکے امر ہو جائے گا۔‘‘*

*یہ کہہ کر بابا برق رفتاری سے مین گیٹ سے باہر نکل گئے… اور میں سر جھکائے زاروقطار رو رہا تھا۔*
*اور دل ہی دل میں رب العزت کا شکر ادا کر رہا تھا کہ بابا نے مجھے کامیابی کا راز بتا دیا تھا۔*

*اللہ ہمیں آسانیاں عطاء فرمائے اور آسانیاں تقسیم کرنے کا شرف بخشے، آمین۔*

Girl of time !

*******مجھے تلاش ھےبہوکی*******

*بیٹے کے واسطے مجھے دُولہن کی ہے تلاش
پھرتا ہوں چار سُو لئے اچھی بہو کی آس*

لیکن کھلا کہ کام یہ آساں نہیں ہے اب
خود لڑکیوں کی ماوں کے بدلے ہوئے ہیں ڈھب

پڑھ لکھ کے لڑکیاں بھی ہیں کاموں پہ جا رہیں
لڑکوں سے بڑھ کے بعض ہیں پیسے کما رہی

اک ماں سے رابطہ کیا رشتے کے واسطے
کہنے لگی گھر آنے کی زحمت نہ کیجئے

لڑکی ہے بینک میں وہیں لڑکے کو بھیجئے
“سی۔وی “بھی اپنا ساتھ وہ لے جائے یاد سے

مل لیں گے ہم بھی بیٹی نے” او کے “اگر کیا
ورنہ زیاں ہے وقت کا ۔۔ملنے سے فائدہ؟

اک اور گھر گئے تو نیاتجربہ ہوا
لڑکی کی ماں نے چُھوٹتے ہی بر ملا کہا

شوقین ہے جو لڑکا اگر دال ،ساگ کا
لڑکی کی پھر نگاہ میں “پینڈو “ہے وہ نِرا

برگر جسے پسند ہے، پیزا پسند ہے
رُتبہ نگاہِ حُسن میں اُس کابلند ہے

اک اور گھر گئے تو طبیعت دہل گئی
پاوں تلے سے گویا زمیں ہی نکل گئی

گر شوق ہے کُکنگ کا تو بے شک سلیکٹ ہے
بیڈٹی بھی گر بنا نہ سکا تو رِیجکٹ ہے

اِک گھر کیا جو فون تو لڑکی ہی خود ملی
کہنے لگی کہ گھر پہ نہیں ہیں مدر مری

فرصت نہیں ہے مجھ کو ملاقات کے لئے
گھر لوٹتی ہوں جاب سے انکل میں دیر سے

ہاں چاہے بیٹا آپ کا گر جاننا مجھے
کہیئے کہ فیس بُک پہ مجھے ایڈ وہ کرے

اِک دوسرے کو کر لیں گر انڈرسٹینڈ ہم
بعد اس کے ہی بجائیں گے شادی کا بینڈ ھم

جس گھر گئے ،وہاں ہمیں جھٹکے نئے لگے
یاروں ہمارے ہاتھوں کے طوطے ہی اُڑ گئے

آخر کھلا یہ راز کہ اپنی ہے سب خطا
بیٹے کی تربیت میں بہت رہ گیا خلا

کھانا پکا سکے ،جو نہ چائے بنا سکے
وہ کس طرح سے آج کی لڑکی کو بھا سکے

پڑھ لکھ کے لڑکیوں کا رویہ بدل گیا
بے شک زمانہ چال قیامت کی چل گیا.

A Masterpiece!

Must read…..a masterpiece !

A rat swallowed a diamond and the owner of the diamond contracted a man to kill the rat.

When the rat hunter arrived to kill the rat there were more than a thousand rats bunched up all together and one sitting by itself away from the pack.
He spotted and killed the one sitting by itself and to the owners surprise, that was the exact one that had swallowed the diamond !!!

The amazed diamond owner asked: “How did you know it was that rat?”
He responded: “Very easy…….
*When idiots get rich, they don’t mix with others!!!”*
😏😜😂

Facebook Friends Request!

Don’t accept Facebook friends request of whom you don’t know. Read this to the end, the world is in another shape now, #SHOCKING EXPOSURE!

Every facebook user needs to read this, especially the Christian.

YOU’D BE SHOCKED TO READ WHAT HAS BEEN HAPPENING TO MOST PEOPLE ON FACEBOOK.

**If you skip this, you’re on your own**

I came across this on youtube and i think you deserve to know this. A man made very shocking confessions on what has been happening on facebook so far, and these were his words as he was questioned…
“We are out with a mandate to lay hold on the souls of the youth.”

WHO ARE YOU?
“we are agents of Lucifer and we are many”.

HOW DO YOU INTEND TO CARRY OUT THIS MISSION?
“we sat in our kingdom and watched how children, teenagers and youths got so interested on the social media, they got so carried away by What’sapp, Bing, facebook, twitter and every other media so we invented a plan. We have destroyed many destinies and rendered many useless through the social media but our main concentration is on “FACEBOOK”.

WHY DID YOU CHOOSE FACEBOOK?
Because we saw that it was more progressive than the others, youths love facebook, they spend much time on it than they do on the others so we placed more demonic agents on facebook and they are still at work now even as i speak.”

HOW DO YOU GET THESE PEOPLE?
“It’s very easy!(laughs) we send them a friend request, once they accept the request, we write down their names in our book and start manipulating their spirits.”

IN WHAT MANNER DO YOU SEND THE REQUESTS?
“we send the requests just like everyother facebook request but the spirit of the individual is captured mainly when he/she goes through our profile pictures or photo albulms, once they see our pictures, their souls are already undergoing manipulations because those photos are not just any photo, they are ordinary photos with extraordinary spirits”.

WHAT DO THESE PHOTOS LOOK LIKE?
“sometimes, we use the naked picture of a woman as our profile picture in other to attract men but most times, we use these pictures(he brought out some horor pictures of these movies- “The lord of the rings”, “Vampire attack”, and many others i couldn’t recognise). Most times, we chat with them but when we chat, we don’t send text messages, we send these photos and once they see these photos, if they were vibrant spiritually, academically, morally and in every aspect, they will begin to drop and eventually drop down.”

WHAT DO YOU DO TO THE PEOPLE YOU CAPTURE?
“there lives get contaminated negatively and their minds get polluted with lust, we never let them go, there are more number of spirits on earth than that of humans and each of them is looking for a body to carry them so many spirits can posess one person and before anything happens physically, it is controlled in the spirit. We get them addicted to porn, homosexuality, lesbianism, masturbation, lust and fornication but the main weakpoints are porn, masturbation and fornication (laughs), they never get out of it no matter how they try”.

HOW MANY PEOPLE HAVE YOU GOTTEN?
They are too many and majority of them are “YOUTHS”.

GIVE A SPECIFIC NUMBER OF PEOPLE YOU’VE GOTTEN!!!
“like i said, they are too many but on facebook alone, we have gotten over 2million youths and i believe our agents are still getting more now. We have diverted our attention on the youth and they are falling to this very plan. We send the request, they accept, go through our photos and they get manipulated. Their lives will never remain the same.”
(After this, the spirit speaking through this young man was casted out showing that even he himself was a victim of the same manipulations)

My dear facebook friend, can you count how many friend requests you’ve accepted? or how many people you’ve added? Can you recall how many pictures you’ve seen or how many chats you’ve had? Are you among these 2million youths or among the ones that are yet to be gotten?
Before the end of the deliverance, the spirit mentioned that they have access to the spirits of those facebookers who are “EMPTY” and once they get them, they make love to them through dreams and drain their destinies.

I now ask, “ARE YOU EMPTY?” The term “EMPTY” here is a spiritual term. DO YOU HAVE A STRONGER SPIRIT DOMINATING YOU?

“WE HAVE A GENERATION OF BLEEDING YOUTH”
if you are struggling with any of these things, you are a bleeding youth. We have to reach out to as much people as we can especially the youth. Search and join Godly & encouraging groups now for more info. We need you to help get youths informed. It is possible before time runs out to liberate our generation by praying & fasting for God’s intervention.

(if you have come across this post, don’t hesitate to share to as many groups & contacts as possible because someone out there could be in serious DANGER!)

*”Forwarded as received”*