Job available!

KAPRAY (Al Rahim Retail Limited) is hiring “Manager Advertising and Promotion”. Incumbent should have proven 5 to 7 years of experience in Adverting & Marketing from various Textile brands. He / She would have to Plan advertising and promotional campaigns, Formulate strategy for marketing plans, make decisions on selection of advertising media such as radio, television, print, online media, and billboards.

Kindly share updated relevant experienced profiles with current remuneration package at careers@kaprayonline.com, career.hrsas@gmail.com before 8th July, 2018. Remember to mention name of applied position in subject line. Only shortlisted candidates will be contacted.

Location: Karachi.

CORPORATE JOKE !

*CORPORATE JOKE*

Agency: ” Sir, we found 3 candidates as per your requirements, now how do you want their placements sir?”

M.D: “Put about 100 bricks in a closed room. Then send the candidates into the room & close the door, leave them alone & come back after a few hours and analyse the situation:-

1) If they are counting the bricks, Put them in Accounts deptt.

2) If they are re-counting the bricks, Put them in Auditing.

3) If they have messed up the whole room with the bricks, Put them in Engineering.

4) If they are arranging the bricks in some strange order, Put them in Planning.

5) If they are throwing the bricks at each other, Put them in Operations.

6) If they are sleeping, Put them in Security.

7) If they have broken the bricks into pieces, Put them in Information Technology.

8) If they are sitting idle, Put them in Human Resources.

9) If they say they have tried different combinations yet not a single brick has been moved, Put them in Sales.

10) If they have already left for the day, Put them in Marketing.

11) If they are staring out of the window, Put them in Strategic Planning.

And…….

12) If they are talking to each other and not a single brick has been touched, Congratulate them and put them in Top Management.

😂🤣😃😁😅😜

Why Tayyab erdogan win the election!

اردگان الیکشن کیوں جیتا ۔۔۔

1- سن 2013 میں مسلم ترکی ملک کی کل ملکی پیداوار ایک ٹریلین سو ملین ڈالر تھی جو کہ مشرق وسطی کی مضبوط ترین تین اقتصادی قوتوں یعنی ایران، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی مجموعی پیداوار کے برابر ہے۔ اردن شام اور لبنان جیسے ملکوں کا تو شمار ہی نہیں ہے۔

2- اردگان نے سالانہ تقریبا 10 پوائنٹس کے حساب سے اپنے ملک کی معیشت کو 111 نمبر سے 16 نمبر پر پہنچا دیا، جس کا مطلب ہے کہ ترکی دنیا کی 20 بڑی طاقتوں (G-20) کے کلب میں شامل ہوگیا ہے۔

3- اردگان نے ترکی کو دنیا کی مضبوط ترین اقتصادی اور سیاسی قوت بنانے کے لیے سن 2023 کا ہدف طے کیا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا ترکی اس عزم میں کامیاب ہوتا ہے؟ یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا۔

4۔ اسطنبول ایئرپورٹ یورپ کا سب سے بڑا ایئر پورٹ ہے۔ اس میں یومیہ 1260 پروازیں آتی ہیں۔ مقامی ایئر پورٹ کی صبح کی 630 فلائٹس اس کے علاوہ ہیں۔

5۔ ترک ایئر لائن مسلسل تین سال سے دنیا کے بہترین فضائی سروس ہونے کا اعزاز حاصل کر رہی ہے۔

6- 10 سالوں کے دوران ترکی نےجنگلات اور پھل دار درختوں کی شکل میں 2 بلین 770 ملین درخت لگائے ہیں۔

7- اپنے اس دور حکومت میں ترکی نے پہلا بکتر بند ٹینک، پہلا ایئر کرافٹ، پہلا ڈرون اور پہلا سیٹلائٹ بنایا ہے۔ یہ سیٹلائٹ عسکری اور بہت سے دیگر امور سرانجام دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

8- اردگان نے 10 سالوں کے دوران 125 نئی یونیورسٹیاں، 189 سکول، 510 ہسپتال اور 1 لاکھ 69 ہزار نئی کلاسیں بنوائیں تاکہ طلبہ کی تعداد فی کلاس 21 سے زیادہ نا ہو۔

9- گذشتہ مالی بحران کے دوران جب امریکا اور یورپ کی یونیورسٹیوں نے بھی اپنی فیسیں بڑھا دی تھیں ان دنوں میں بھی اردگان نے حکم نامہ جاری کیا کہ تمام یونیورسٹیوں اور کالجوں میں تعلیم مفت ہوگی اور سارا خرچہ حکومت برداشت کرے گی۔

10- 10 سال پہلے ترکی میں فی فرد آمدن 3500 ڈالر سالانہ تھی جو 2013 میں بڑھ کر 11 ہزار ڈالر سالانہ تک پہنچ گئی تھی۔ یہ شرح فرانس کی فی فرد شرح آمدن سے زیادہ ہے۔ اس دوران ترکی کرنسی کی قیمت میں 30 گنا اضافہ ہوا۔

11- ترکی کی بھرپور کوشش ہے کہ سن 2023 تک علمی تحقیقات کے لیے 3 لاکھ سکالرز تیار کیے جائیں۔

12- اہم ترین سیاسی کامیابیوں میں یہ بھی شامل ہے کہ اردگان نے قبرص کے دونوں حصوں میں امن قائم کیا اور کرد کارکنوں کے ساتھ برابری کی سطح پر مذاکرات کے ذریعے خون خرابے کو روکا۔ آرمینیا کے ساتھ مسائل کو سلجھایا۔ یہ وہ مسائل ہیں جن کی فائلیں گذشتہ 9 دہائیوں سے رکی ہوئی تھیں۔

13- ترکی میں تنخواہوں اور اجرتوں میں 300 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ مزدور کی کم از کم تنخواہ 340 لیرہ سے بڑھ کر 957 لیرہ ہوگئی ہے۔ کام کی تلاش میں پھرنے والوں کی شرح 38 فیصد سے گھٹ کر 2 فیصد پر آگئی ہے۔

14- ترکی میں تعلیم اور صحت کا بجٹ دفاع کے بجٹ سے زیادہ ہے۔ یہاں استاد کی تنخواہ ڈاکٹر کے برابر ہے۔

15- مسلم ترکی میں 35 ہزار ٹیکنالوجی لیب بنائی گئی ہیں جہاں نوجوان ترکی تربیت حاصل کرتے ہیں۔

16- اردگان نے 47 ارب کا بجٹ خسارہ پورا کیا اور اس کے ساتھ ساتھ گذشتہ جون میں بدنام زمانہ ورلڈ بینک کے قرضے کی 300 ملین ڈالر کی آخری قسط بھی ادا کردی۔ صرف یہی نہیں بلکہ ترکی نے ورلڈ بینک کو 5 ارب ڈالر قرضہ دیا۔ مزید برآں ملکی خزانے میں 100 ارب ڈالر کا اضافہ کیا، جبکہ اس دوران بڑے بڑے یورپی ممالک اور امریکا جیسے ملک قرضوں، سود اور افلاس کی وادی میں حیران و سرگرداں ہیں۔

17- 10 سال قبل ترکی کی برآمدات 23 ارب ڈالرتھیں۔ اب اس کی برآمدات 153 ارب ڈالر ہیں جو کہ دنیا کے 190 ممالک میں پہنچتی ہیں۔ ان برآمدات میں پہلے نمبر پر گاڑیاں اور دوسرے نمبر پر الیکٹرانک کا سامان آتا ہے۔ یورپ میں بکنے والی الیکٹرانک اشیاء میں ہرتین میں سے ایک ترکی کی بنی ہوئی ہوتی ہے۔

18- ترکی حکومت نے توانائی اور بجلی کی پیداوار کے لیے کوڑے کی ریسائکلنگ کا طریقہ اختیار کیا ہے۔ اس سے ترکی کی ایک تہائی آبادی مستفید ہو رہی ہے۔ ترکی کے شہری اور دیہی علاقوں کے 98 فیصد گھروں میں بجلی پہنچ چکی ہے۔

19- اردگان نے ایک ٹی وی پروگرام میں ایک بچے کے ساتھ مباحثہ میں شرکت کی جس میں ترکی کے مستقبل کے بارے میں گفتگو ہوئی۔ اس بچے کی عمر 12 سال سے زائد نہیں تھی۔ اردگان نے اس بچے کی بھرپور حوصلہ افزائی کی۔اپنے اس عمل سے اردگان نے ترک بچوں کو مباحثہ اور گفتگو کی ایک بہترین مثال پیش کی۔ اس سے ان بچوں کے مستقبل کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔

20- عرب سیکولرز کی جانب سے اسرائیل کے ساتھ ترکی کی دوستی کا جو شوشہ چھوڑا جاتا ہے اس کا عالم یہ کہ غزہ جانے والے ماوے مرمرہ جہاز پر جب اسرائیلیوں نے حملہ کیا تو ترکی نے اسرائیل کو بھرپور طمانچہ رسید کیا۔ اور نا صرف اسے معافی مانگنے پر مجبور کیا بلکہ معافی کے لیے غزہ سے محاصرہ ختم کرنے کی شرط بھی عائد کی۔

21- 2009 میں ہونے والی دافوس اقتصادی کانفرنس میں جب اسرائیلی صدر پیریز نے غزہ پر حملے کا جواز پیش کیا اور لوگوں نے اس پر تالیاں بجائیں تو اسرائیل کے اس دوست اردگان نے تالیاں بجانے والوں پر شدید تنقید کی اور یہ کہہ کر اس کانفرنس سے اٹھ گئے کہ ” تمہیں شرم آنی چاہیے کہ ایسی گفتگو پر تالیاں بجاتے ہو! حالانکہ اسرائیل نے غزہ میں ہزاروں بچوں اور عورتوں کی جانیں لی ہیں۔”

22- اردگان نے اپنے مخالفین کا سامنا واٹر کینن سے کیا۔ اس نے ان پر مگ طیاروں اور اسکڈ میزائیلوں سے حملہ نہیں کیا۔

23- اردگان نے اپنی بیٹی کے سر سے حجاب اتارنے سے انکار کیا اور تعلیم کے حصول کے لیے اسے یورپ بھیج دیا۔ یہ اس وقت کی بات ہے جب ترکی کی یونیورسٹیوں میں حجاب پر پابندی تھی۔

24- اردگان وہ واحد شخص ہے جس نے اپنہ اہلیہ کے ساتھ برما کا دورہ کیا اور میانمار کے ستم رسیدہ مسلمانوں سے ملاقاتیں کیں۔

25- 9 دہائیوں پر محیط سیکولر دور حکومت کے بعد اردگان نے ترکی کی یونیورسٹیوں میں قرآن اور حدیث کی تعلیم دوبارہ شروع کی۔

26- اردگان نے یونیورسٹیوں اورعدالتوں میں حجاب پہننے کی آزادی دی۔

27- اردگان نے بحر اسود کی کنارے پر سب سے بڑے معلق پل پر بسم اللہ الرحمن الرحیم کے حروف پر مشتمل لائٹنگ کی جبکہ ایک عرب ملک نے دنیا کا سب سے بڑا کرسمس درخت بنایا جس پر 40 ملین ڈالر لاگت آئی۔

28- اردوگان ترکی کے نصاب میں عثمانی رسم الخط کو واپس لا رہا ہے۔ جو درحقیقت عربی رسم الخط ہے۔

29- اردگان نے سات سال کی عمر کے 10 ہزار بچوں کے ایک جلوس کا اہتمام کیا جو اسطنبول کی سڑکوں پر یہ اعلان کر رہے تھے کہ وہ سات سال کے ہوگئے ہیں اور اب وہ نماز اور قرآن پاک کا حفظ شروع کریں گے۔

کاش کہ ہم بھی اردگان جیسی کچھ حماقتیں کرسکتے۔

Income Tax Slabs (Pakistan)!

Income Tax Slabs

As per income tax exemption bill passed by Government of Pakistan, following slabs and income tax rates will be applicable for salaried persons for the year 2018-2019:

  1. Where the taxable salary income does not exceed Rs. 400,000 the rate of income tax is 0%.
  2. Where the taxable salary income exceeds Rs. 400,000 but does not exceed Rs. 800,000 the rate of income tax is Rs. 1000.
  3. Where the taxable salary income exceeds Rs. 800,000 but does not exceed Rs. 1,200,000 the rate of income tax is Rs. 2000.
  4. Where the taxable salary income exceeds Rs. 1,200,000 but does not exceed Rs. 2,400,000the rate of income tax is 5% of the amount exceeding Rs. 1,200,000. or Rs. 2000. which one is greater.
  5. Where the taxable salary income exceeds Rs. 2,400,000 but does not exceed Rs. 4,800,000the rate of income tax is Rs. 60,000 + 10% of the amount exceeding Rs. 2,400,000.
  6. Where the taxable salary income exceeds Rs. 4,800,000 the rate of income tax is Rs. 300,000 + 15% of the amount exceeding Rs. 4,800,000

Ten things!

*ﺩﺱ ﺭﻭﺣﺎﻧﯽ مشاہدات:*

*تحریر: جاوید چوہدری*

*ایک:*
ﻭﮦ ﮔﮭﺮ ﺟﺲ ﮐﮯ ﺻﺤﻦ ﺳﮯ ﺩﺭﺧﺖ ﮐﺎﭦ ﺩﯾﺎ ﺟﺎﺋﮯ ﻭﮦ ﮔﮭﺮ ﮐﺒﮭﯽ ﺁﺑﺎﺩ ﻧﮩﯿﮟ ﺭﮨﺘﺎ۔ ﺁﭖ ﺟﺐ ﺑﮭﯽ ﮐﺴﯽ ﮔﮭﺮ ﮐﻮ ﺍﺟﮍﺗﺎ ﺩﯾﮑﮭﯿﮟ‘
ﺁﭖ ﺗﺤﻘﯿﻖ ﮐﺮ ﮐﮯ ﺩﯾﮑﮫ ﻟﯿﮟ ﺍﺱ ﮔﮭﺮ ﮐﯽ ﺑﺮﺑﺎﺩﯼ ﺩﺭﺧﺖ ﮐﺎﭨﻨﮯ ﺳﮯ ﺷﺮﻭﻉ ﮨﻮﺋﯽ ﮨﻮ ﮔﯽ ﭼﻨﺎﻧﭽﮧ ﺁﭖ ﮐﮯ ﮔﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﺍﮔﺮ ﮐﻮﺋﯽ ﭘﺮﺍﻧﺎ ﺩﺭﺧﺖ ﮨﮯ ﺗﻮ ﺁﭖ ﺍﺳﮯ ﮨﺮﮔﺰ‘ ﮨﺮﮔﺰ ﻧﮧ ﮐﺎﭨﯿﮟ‘ ﺁﭖ ﮐﺎ ﮔﮭﺮ ﮨﻤﯿﺸﮧ ﺁﺑﺎﺩ ﺭﮨﮯ ﮔﺎ‘ ﯾﮧ ﻭﮦ ﺣﻘﯿﻘﺖ ﮨﮯ ﺟﺲ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﺍﻭﻟﯿﺎﺀ ﮐﺮﺍﻡ ﭘﻮﺭﯼ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﺩﺭﺧﺖ ﻟﮕﺎﺗﮯ ﺍﻭﺭ ﺩﺭﺧﺘﻮﮞ ﮐﯽ ﺣﻔﺎﻇﺖ ﮐﺮﺗﮯ ﺭﮨﮯ‘

*ﺩﻭ:*
ﺟﺲ ﮔﮭﺮ ﺳﮯ ﭘﺮﻧﺪﻭﮞ‘ ﺟﺎﻧﻮﺭﻭﮞ ﺍﻭﺭ ﭼﯿﻮﻧﭩﯿﻮﮞ ﮐﻮ ﺭﺯﻕ ﻣﻠﺘﺎ ﺭ ﮨﮯ ﺍﺱ ﮔﮭﺮ ﺳﮯ ﮐﺒﮭﯽ ﺭﺯﻕ ﺧﺘﻢ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﺎ۔ ﺁﭖ ﺗﺠﺮﺑﮧ ﮐﺮ ﻟﯿﮟ‘*ل ﺁﭖ ﭘﺮﻧﺪﻭﮞ‘ ﺑﻠﯿﻮﮞ‘ ﮐﺘﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﭼﯿﻮﻧﭩﯿﻮﮞ ﮐﻮ ﮐﮭﺎﻧﺎ‘ ﺩﺍﻧﺎ ﺍﻭﺭ ﭘﺎﻧﯽ ﮈﺍﻟﻨﺎ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﺮ ﺩﯾﮟ ﺁﭖ ﮐﮯ ﮔﮭﺮ ﮐﺎ ﮐﭽﻦ ﺑﻨﺪ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮ ﮔﺎ‘ ﺁﭖ ﭘﺮ ﺭﺯﻕ ﮐﮯ ﺩﺭﻭﺍﺯﮮ ﮐﮭﻠﮯ ﺭﮨﯿﮟ ﮔﮯ‘ ﺁﭖ ﮐﻮ ﺍﻧﺒﯿﺎﺀ ﺍﻭﺭ ﺍﻭﻟﯿﺎﺀ ﮐﮯ ﻣﺰﺍﺭﺍﺕ ﭘﺮ ﮐﺒﻮﺗﺮ‘ ﮐﻮﮮ‘ ﻣﻮﺭ‘ ﺑﻠﯿﺎﮞ ﺍﻭﺭ ﭼﯿﻮﻧﭩﯿﺎﮞ ﮐﯿﻮﮞ ﻣﻠﺘﯽ ﮨﯿﮟ؟ ﯾﮧ ﺩﺭﺍﺻﻞ ﻣﺰﺍﺭﺍﺕ ﭘﺮ ﻟﻨﮕﺮ ﮐﯽ ﺿﻤﺎﻧﺖ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ‘

*ﺗﯿﻦ:*
ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﻏﺮﯾﺒﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﮐﭙﮍﮮ ﺗﻘﺴﯿﻢ ﮐﺮﻧﮯ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﮐﻮ ﮐﺒﮭﯽ ﺑﮯ ﻋﺰﺕ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﻧﮯ ﺩﯾﺘﺎ۔ ﺁﭖ ﺍﮔﺮ ﭼﺎﮨﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺁﭖ ﮐﮯ ﻣﺨﺎﻟﻔﯿﻦ ﺁﭖ ﮐﻮ ﺑﮯ ﻋﺰﺕ ﻧﮧ ﮐﺮ ﺳﮑﯿﮟ ﺗﻮ ﺁﭖ ﻏﺮﺑﺎﺀ ﻣﯿﮟ ﮐﭙﮍﮮ ﺗﻘﺴﯿﻢ ﮐﺮﻧﺎ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﺮ ﺩﯾﮟ‘ ﺑﺎﻟﺨﺼﻮﺹ ﺁﭖ ﻏﺮﯾﺐ ﺑﭽﯿﻮﮞ ﮐﻮ ﻟﺒﺎﺱ ﺍﻭﺭ ﭼﺎﺩﺭﯾﮟ ﻟﮯ ﮐﺮ ﺩﯾﻨﺎ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﺮ ﺩﯾﮟ‘ ﺁﭖ ﻣﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺗﮏ ﺑﺎﻋﺰﺕ ﺭﮨﯿﮟ ﮔﮯ‘ ﺁﭖ ﮐﺎ ﺑﮍﮮ ﺳﮯ ﺑﮍﺍ ﻣﺨﺎﻟﻒ ﺑﮭﯽ ﺁﭖ ﮐﯽ ﺑﮯ ﻋﺰﺗﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮ ﺳﮑﮯ ﮔا ﭼﻨﺎﻧﭽﮧ ﺁﭖ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﯽ ﺳﺘﺮ ﭘﻮﺷﯽ ﮐﺎ ﺑﻨﺪﻭﺑﺴﺖ ﮐﺮﯾﮟ۔ ﺍﻟﻠﮧ ﺁﭖ ﮐﯽ ﺑﺮﮨﻨﮕﯽ ﮈﮬﺎﻧﭗ ﺩﮮ ﮔﺎ‘

*ﭼﺎﺭ:*
ﺁﭖ ﺍﮔﺮ ﺍﭘﻨﯽ ﺭﺍﮦ ﺳﮯ ﺑﮭﭩﮑﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﺍﻭﻻﺩ ﮐﻮ ﺭﺍﮦ ﺭﺍﺳﺖ ﭘﺮ ﻻﻧﺎ ﭼﺎﮨﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺗﻮ ﺁﭖ ﻏﺮﯾﺐ ﺑﭽﯿﻮﮞ ﮐﯽ ﺷﺎﺩﯾﺎﮞ ﮐﺮﺍ ﺩﯾﮟ‘ ﺁﭖ ﮐﯽ ﺍﻭﻻﺩ ﻧﯿﮏ ﮨﻮ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﯽ‘ ﺁﭖ ﺗﺠﺮﺑﮧ ﮐﺮ ﮐﮯ ﺩﯾﮑﮫ ﻟﯿﮟ‘ ﺁﭖ ﻏﺮﯾﺐ ﺑﭽﯿﻮﮞ ﮐﯽ ﺷﺎﺩﯼ ﮐﺮﺍﺋﯿﮟ‘ ﺁﭖ ﺍﻧﮭﯿﮟ ﮔﮭﺮﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﺁﺑﺎﺩ ﮐﺮﺍﺋﯿﮟ‘ ﺁﭖ ﺍﭘﻨﯽ ﺍﻭﻻﺩ ﭘﺮ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺍﺛﺮﺍﺕ ﺩﯾﮑﮭﯿﮟ ﮔﮯ ﺍﻭﺭ ﯾﮧ ﺍﺛﺮﺍﺕ ﺁﭖ ﮐﻮ ﺣﯿﺮﺍﻥ ﮐﺮ ﺩﯾﮟ ﮔﮯ‘

*ﭘﺎﻧﭻ:*
ﺁﭖ ﺍﮔﺮ ﺍﭘﻨﯽ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﻣﯿﮟ ﺷﮑﺮ ﺍﻭﺭ ﺍﻃﻤﯿﻨﺎﻥ ﻻﻧﺎ ﭼﺎﮨﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺗﻮ ﺁﭖ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﻮ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﮐﮭﻼﻧﺎ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﺮ ﺩﯾﮟ۔ ﺁﭖ ﮐﺎ ﺩﻝ ﺍﻃﻤﯿﻨﺎﻥ ﮐﯽ ﻧﻌﻤﺖ ﺳﮯ ﻣﺎﻻ ﻣﺎﻝ ﮨﻮ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﺎ‘ ﺁﭖ ﮐﻮ ﺍﻭﻟﯿﺎﺀ ﮐﺮﺍﻡ ﮐﯽ ﺫﺍﺕ ﻣﯿﮟ ﺍﻃﻤﯿﻨﺎﻥ ﻧﻈﺮ ﺁﺗﺎ ﮨﮯ‘ ﯾﮧ ﺍﻃﻤﯿﻨﺎﻥ ﺗﻮﺍﺿﻊ ﮐﯽ ﺩﯾﻦ ﮨﮯ‘ ﺁﭖ ﺑﮭﯽ ﻣﺘﻮﺍﺿﻊ ﮨﻮ ﺟﺎﺋﯿﮟ‘ ﺁﭖ ﮐﯽ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﺳﮯ ﻻﻟﭻ ﮐﻢ ﮨﻮ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﺎ‘ ﺁﭖ ﻣﻄﻤﺌﻦ ﮨﻮ ﺟﺎﺋﯿﮟ ﮔﮯ‘

*ﭼﮫ:*
ﺁﭖ ﺍﮔﺮ ﺻﺤﺖ ﻣﻨﺪ ﺭﮨﻨﺎ ﭼﺎﮨﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺗﻮ ﺁﭖ ﻏﺮﺑﺎﺀ ﮐﺎ ﻋﻼﺝ ﮐﺮﺍﻧﺎ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﺮ ﺩﯾﮟ‘ ﺁﭖ ﮐﯽ ﺻﺤﺖ ﺍﻣﭙﺮﻭﻭ ﮨﻮﺟﺎﺋﮯ ﮔﯽ‘ ﺁﭖ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺟﻮ ﺑﮭﯽ ﺩﻭﺍﺀ ﮐﮭﺎﺋﯿﮟ ﮔﮯ ﻭﮦ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﻣﺮﯾﻀﻮﮞ ﮐﮯ ﻣﻘﺎﺑﻠﮯ ﻣﯿﮟ ﺁﭖ ﭘﺮ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺍﺛﺮ ﮐﺮﮮ ﮔﯽ۔ ﺁﭖ ﺟﻮ ﺑﮭﯽ ﺧﻮﺭﺍﮎ ﮐﮭﺎﺋﯿﮟ ﮔﮯ ﻭﮦ ﺁﭖ ﭘﺮ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺍﺛﺮ ﮐﺮﮮ ﮔﯽ‘

*ﺳﺎﺕ:*
ﺁﭖ ﺍﮔﺮ ﺩﻧﯿﺎﻭﯼ ﻣﺸﮑﻼﺕ ﮐﺎ ﺷﮑﺎﺭ ﮨﯿﮞ تو ﺁﭖ ﮐﻮﺋﯽ ﮔﻠﯽ‘ ﮐﻮﺋﯽ ﺳﮍﮎ ﺑﻨﻮﺍ ﺩﯾﮟ‘ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﺁﭖ ﮐﯽ ﮨﺮ ﻣﺸﮑﻞ ﮐﺎ ﺭﺍﺳﺘﮧ ﻧﮑﺎﻝ ﺩﮮ ﮔﺎ‘ ﺁﭖ ﮐﺎ ﮨﺮ ﺑﻨﺪ ﺩﺭﻭﺍﺯﮦ ﮐﮭﻞ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﺎ‘

*ﺁﭨﮫ:*
ﺁﭖ ﺍﮔﺮ ﮈﭘﺮﯾﺸﻦ ﮐﺎ ﺷﮑﺎﺭ ﮨﯿﮟ ﺗﻮ ﺁﭖ ﺩﻭﺳﺮﻭﮞ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﭨﮭﻨﮉﮮ ﭘﺎﻧﯽ ﮐﺎ ﺑﻨﺪﻭﺑﺴﺖ ﮐﺮ ﺩﯾﮟ‘ ﮐﻨﻮﺍﮞ ﮐﮭﺪﻭﺍ ﺩﯾﮟ‘ ﻏﺮﯾﺐ ﮐﮯ ﮔﮭﺮ ﻣﻮﭨﺮ ﻟﮕﻮﺍ ﺩﯾﮟ ﯾﺎ ﭘﮭﺮ ﮔﮭﺮ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﭨﮭﻨﮉﮮ ﭘﺎﻧﯽ ﮐﺎ ﮐﻮﻟﺮ ﺭﮐﮫ ﺩﯾﮟ‘ ﺁﭖ ﮐﺎ ﮈﭘﺮﯾﺸﻦ ﺧﺘﻢ ﮨﻮ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﺎ ‘ ﮐﯿﻮﮞ؟ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﮈﭘﺮﯾﺸﻦ ﺁﮒ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﭘﺎﻧﯽ ﮨﺮ ﺁﮒ ﮐﻮ ﺑﺠﮭﺎ ﺩﯾﺘﺎ ﮨﮯ.

*ﻧﻮ:*
ﮐﺘﺎﺑﯿﮟ ﺑﮩﺘﺮ ﺩﻭﺳﺖ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﯿﮟ‘ ﺁﭖ ﺍﭼﮭﮯ ﺩﻭﺳﺖ ﭼﺎﮨﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺗﻮ ﺁﭖ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﮐﺘﺎﺑﯿﮟ ﺗﻘﺴﯿﻢ ﮐﺮﻧﺎ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﺮ ﺩﯾﮟ‘ ﺁﭖ ﻻﺋﺒﺮﯾﺮﯼ ﺑﻨﺎ ﺩﯾﮟ‘ ﺁﭖ ﮐﺒﮭﯽ ﺩﻭﺳﺘﻮﮞ ﮐﯽ ﮐﻤﯽ ﮐﺎ ﺷﮑﺎﺭ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﮞ ﮔﮯ‘ ﺁﭖ ﮐﻮ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﮯ ﮨﺮ ﮐﻮﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﺩﻭﺳﺖ ﻣﻠﯿﮟ ﮔﮯ.

*دس*
ﺁﭖ ﺍﮔﺮ ﻃﺎﻗﺘﻮﺭ ﮨﻮﻧﺎ ﭼﺎﮨﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺗﻮ ﺁﭖ ﺳﺎﺩﮔﯽ ﺍﺧﺘﯿﺎﺭ ﮐﺮ ﻟﯿﮟ‘ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﺎ ﮐﻮﺋﯽ ﻓﺮﻋﻮﻥ ﺁﭖ ﮐﺎ ﻣﻘﺎﺑﻠﮧ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮ ﺳﮑﮯ ﮔﺎ۔ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﻧﮯ ﺳﺎﺩﮔﯽ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﭩﻤﯽ ﻃﺎﻗﺖ ﺭﮐﮭﯽ ﮨﮯ‘ ﺷﺎﯾﺪ ﺍﺳﯽ ﻟﯿﮯ ﺗﻤﺎﻡ ﺍﻧﺒﯿﺎﺀ ﺍﻭﺭ ﺗﻤﺎﻡ ﺍﻭﻟﯿﺎﺀ ﺳﺎﺩﮦ ﺗﮭﮯ ﭼﻨﺎﻧﭽﮧ ﻓﺮﻋﻮﻥ ﮨﻮ ﯾﺎ ﻧﻤﺮﻭﺩ ﯾﮧ ﺍﻥ ﮐﯽ ﻃﺎﻗﺖ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﭨﮭﮩﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﺳﮑﮯ ‘ ﺁﭖ ﺑﮭﯽ ﺁﺯﻣﺎ ﻟﯿﮟ‘ ﺁﭖ ﮐﺎ ﺑﮭﯽ ﮐﻮﺋﯽ ﻣﻘﺎﺑﻠﮧ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮ ﺳﮑﮯ گا.