Recipe for chicken pulao

Ingredients:

Chicken 1/2 kg

Rice 1/2 kg

Onion 1 (chopped)

Ghee 1/2 cup

Ginger garlic paste 1 tsp

Green chilli 4

Yogurt 1 cup

Green carndamom 2

Black carndamom 2

Cloves 8

Salt 1 tsp

Nutmeg and mace powder 1tsp

Cinnamon 2

Black pepper 1 tsp

Cumin 1 tsp

Fennel 1 tsp

Coriander seeds 1 tsp

Bay leaf 1

Star anise 1

Garlic cloves 4

Recipe:

Add chicken, cumin, fennel,coriander seeds, black pepper, green cardamom, black cardamom, cinnamon, bay leaf, star anise, onion, garlic, ginger, salt, and 4 glass water in a pan. Mix well and boil it for 5 minutes on high flame. Cook for 10 minutes on medium flame. Take the chicken out of it. Filter the soup.

Now take ghee in a separate pan. Add onion. Fry it till light brown colour. Add ginger garlic paste. Mix well . Add chicken, yogurt, green chilli, nutmeg and mace powder. Cook for 2 minutes at medium flame with stir. Add soup to it. Cook for 6 minutes on high flame. Cook for 15 minutes on slow flame with cover lid.

Tasty pulao is ready to serve.

Recipe for chicken karahi

Ingredients:

Chicken: 500 grams

Oil: 4 tb spoon

chopped garlic: 1 tb spoon

Chopped ginger: 1 tb spoon

Salt: upto taste

Green chilli: 4 in small size

Chopped red chilli: 1/2 tb spoon

Red Chilli: 1/2 tb spoon

Lemon: one piece

Coriander crushed: 1tbsp

Tomato: 3 pieces

yogurt: 1/2 cup

Butter: 1tsp

Chicken stock: 1/2 cup

turmeric: half tsp

Cooking method:

In cooking pot, add cooking oil nd add garlic ginger paste until light brown. Now add chicken nd cook it for 2 to 3 minutes.

Afterwards, add salt, turmeric, red chilli, hot spice, lemon, tomato, chicken stock, cumin nd steam it for 5 to 7 minutes.

After, add yogurt nd cook it for 3 to 4 minutes. Next add butter. Use ginger, green coriander, green chilli for garnishing.

Tasty chicken karahi is ready now. Serve it with raita nd naan.

Respect to Water!

پانی کو عزت دو

بھارت نے پاکستان کے حصے کے پانی پر کشن گنگا ڈیم بنا لیا ہے اور چند ہی دنوں میں مودی اس کا باقاعدہ افتتاح کرنے والے ہیں ۔ پانی کی قلت کے بد ترین بحران سے دوچار پاکستان ایک نئے عذاب سے دوچار ہونے جا رہا ہے مگر زندہ اور پائندہ قوم میں کسی کو پرواہ ہی نہیں ہے ۔ سیاسی قیادت روز ایک نیا تماشا لگا دیتی ہے اور میڈیا اس پر ڈگڈگی بجاتے ہوئے دن گزار دیتا ہے۔

غیر سنجیدگی اور خوفناک سطحیت کے اس ماحول میں کسی کو احساس ہی نہیں پاکستان کے ساتھ کیا ہونے جا رہا ہے ۔ کشن گنگا ڈیم کی تکمیل ایک انتہائی خوفناک منظر نامہ ہے ۔ بھارت میں جس دریا کو کشن گنگا کہتے ہیں پاکستان میں وہ دریائے نیلم کے نام سے جانا جاتا ہے ۔ یہ دریا وادی نیلم سے ہوتا ہوا مظفر آباد کے قریب دومیل کے مقام پر دریائے جہلم میں شامل ہو جاتا ہے۔

اب بھارت نے 22 کلومیٹر سرنگ بنا کر اس کا رخ موڑ دیا ہے ۔ اب یہ وادی نیلم میں نہیں بہے گا ۔ کشن گنا پراجیکٹ کے لیے اسے وولر جھیل کے ذریعے بارہ مولا کے مقام پر مقبوضہ کشمیر ہی میں دریائے جہلم میں ڈال دیا گیاہے ۔ یعنی اس کے قدرتی بہاؤ میں فرق ڈال دیا گیا ہے ۔ اب صرف کتابوں میں ملے گا کہ وادی نیلم میں ایک دریا بھی بہتا تھا جسے دریائے نیلم کہتے تھے۔

ذرا غور کیجیے وادی نیلم سے دریائے نیلم ہی روٹھ جائے، اس کا رخ بدل دیا جائے تو یہ وادی کیا منظر پیش کرے گی؟ اس کا تو سارا حسن اجڑ جائے گا ۔ ہنستی بستی وادی اجاڑ اور بیابان ہو جائے گی ۔ یہ تو برباد ہو جائے گی ۔ وادی نیلم میں ساڑھے چار لاکھ سے زیادہ لوگ خط غربت سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں ۔ دریائے نیلم کے ساتھ ساتھ ان کی زندگی چلتی ہے ۔

اسی کے ساتھ ساتھ وہ چاول وغیرہ اگاتے ہیں ، ان کی چکیاں اسی کے پانی سے چلتی ہیں ۔ یہ دریا ان کے لے زندگی کا پیغام ہے ۔ یاد رہے کہ وادی نیلم میں مون سون کی بارشیں نہیں ہوتیں ۔ اسے ’’ نان مون سون‘‘ کہا جاتا ہے ۔اس وادی کا 41 ہزار ایکڑ رقبہ دریائے نیلم سے سیراب ہوتا ہے ۔ جہاں سے دریا کا رخ بدلا گیا ہے وہاں سے دو میل تک 230 کلومیٹر کا علاقہ ہے۔

اڑھائی سو گاؤں پر مشتمل یہ سارا علاقہ ذرا تصور کیجیے کہ چند دنوں بعد ایک بہتے دریا سے اچانک محروم ہو جائے گا ۔ بارہ سو ٹن ٹراؤٹ مچھلی سالانہ اس علاقے سے پکڑ کر مقامی لوگ لوکل مارکیٹ میں فروخت کرتے ہیں ۔ یہ بھی ختم ہو جائے گی ۔ جنگلات کا مستقبل بھی ایک سوالیہ نشان ہو گا ۔ یہی نہیں پاکستان کے نیلم جہلم پراجیکٹ کا مستقبل بھی مخدوش ہوتا دکھائی دے رہا ہے ۔

ہمارا 27 فیصد پانی کم ہو جائے گا اور اس کے نتیجے میں نیلم جہلم ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کی پیداواری صلاحیت میں 20 فیصد کمی آ جائے گی ۔ اور اگر بھارت نے کسی وقت مزید شر پسندی کرنا چاہی تو معاملات مزید سنگین ہو جائیں گے۔ مکمل تباہی دستک دے رہی ہے اور کسی کو پرواہ نہیں ۔ اس سارے معاملے میں ہماری حکومت نے جس بے بصیرتی ، جہالت اور مجرمانہ غفلت کا مظاہرہ کیا وہ اس سے بھی زیادہ خوفناک ہے ۔

بھارت نے اس پراجیکٹ پر کام شروع کیا تو پاکستان نے انٹر نیشنل کورٹ آف آربٹریشن سے رجوع کر لیا ۔ عدالت نے پاکستان سے کہا کہ وہ پانی کے حوالے سے سارا ڈیٹا شواہد کے ساتھ عدالت کو فراہم کرے ۔ پاکستان کی تیاریوں کا عالم یہ تھا کہ جب عدالت نے یہ ڈیٹا مانگا تو حکومت کے پاس عدالت کو دینے کے لیے کچھ تھا ہی نہیں ۔ خفت مٹانے کے لیے عدالت سے کہا گیا دس دنوں کی مہلت دے دیجیے ہم سب کچھ پیش کر دیں گے ۔

پاکستان جس وقت پانی کے اہم ترین مسئلے پر اپنی بقاء کی جنگ لڑ رہا تھا ، نواز شریف اقتدار سنبھال چکے تھے اور ان کی بے نیازی کا یہ عالم تھا کہ پاکستان کا کوئی کل وقتی وزیر خارجہ تک نہیں تھا ۔ یہ اضافی ذمہ داری انہوں نے اپنے پاس رکھی ۔کیوں رکھی ؟

یہ ایک الگ داستان ہے جس پر پھر کسی روز بات کریں گے ۔ 25جون 2013 کو نواز شریف وزیر اعظم بنے اور اس سے 6 ماہ بعد بیس دسمبر 2013 کو عدالت نے بھارت کے حق میں فیصلہ سنا دیا ۔ اس فیصلے کے صفحہ34 پر عدالت نے لکھ دیا کہ ’’ حکومت پاکستان نے پانی کے موجودہ اور متوقع زرعی استعمال کے حوالے سے کوئی اعداد و شمار پیش نہیں کیے‘‘۔ کوئی مہذب معاشرہ ہوتا تو اس غفلت پر حکومت کا حشر نشر ہو جاتا لیکن نیم خواندہ معاشرے میں نواز حکومت نے کمال ڈھٹائی سے دعوی فرما دیا کہ یہ فیصلہ تو ہماری کامیابی ہے۔

اب آگے سنیے ۔ بھارت کو عدالت نے ڈیم بنانے کا حق دے دیا تو اس نے کھل کر کھیلنا شروع کر دیااور سندھ طاس معاہدے کی دھجیااں اڑا دیں ۔ نواز شریف اس سارے دورمیں مودی کی نازبرداریاں فرماتے رہے اور سجن جندال کی میزبانی فرماتے رہے ۔اب جب مودی اس ڈیم کا افتتاح کرنے والا ہے تو ہمیں ہوش آیا ہے اور ہم درخواست ہاتھ میں لیے ورلڈ بنک کی منتیں کر رہے ہیں کہ سندھ طاس معاہدے کے تحت چونکہ آپ ثالث ہیں اس لیے ہماری بات تو سنیے ۔ ہم نے یہاں بھی وقت ضائع کر دیا ۔

ہماری کامیاب سفارت کاری کا عالم یہ ہے کہ ہم امید لگائے بیٹھے تھے اپریل میں ہمیں ملاقات کا وقت مل جائے گا لیکن ہمیں کہا گیا ورلڈ بنک کے صدر مصروف ہیں ابھی ان کے پاس وقت نہیں ۔ اب ڈیم کے افتتاح سے پہلے ورلڈ بنک کے سدر سے ملاقات کا کوئی امکان نہیں ۔ اور افتتاح کے بعد اس کا کوئی فائدہ نہیں ۔ نواز شریف اور شاہد خاقان نے غریب قوم کے خرچے پر بیرونی دوروں کے ریکارڈ قائم کر دیے لیکن حالت یہ ہے کہ ورلڈ بنک کے سربراہ کے پاس پاکستانی وفد سے ملنے کا وقت ہی نہیں ۔ اور بے حسی دیکھیے کہ حکومت کو کوئی پرواہ نہیں کیا ہو رہا ہے ۔

پانی ہمارے لیے موت و حیات کا مسئلہ ہے ۔ لیکن ہمیں کوئی حیا نہیں آ رہی کہ اسے سنجیدگی سے لیں ۔ کوئی اور ملک ہوتا اور اس کے ساتھ ایسی واردات ہو رہی ہوتی تو وہ اب تک سفارتی محاذ پر ایسا طوفان کھڑا کر چکا ہوتا کہ ورلڈ بنک تو رہا ایک طرف خود اقوام عالم کو معاملے کا نوٹس لینا پڑتا لیکن ہمارے ہاں کشن گنگا کی واردات پر حکومت بول رہی ہے نہ اپوزیشن ۔

نیم خواندہ اور اوسط سے کم درجے کی قیادت کو شاید اس معاملے کی سنگینی کا احساس تک نہیں۔ کشن گنگا پراجیکٹ سے ہمارے ایکو سسٹم کو بھی خطرہ ہے ۔ بھارت یو این کنونشن آن بائیولوجیکل ڈائیورسٹی ، کنونشن آن کلائیمیٹ چینج اور کنونشن آن واٹر لینڈز پر دستخط کر چکا ہے ۔ ہماری پوری ایک وادی مکمل طور پر تباہ ہونے جا رہی ہے اور ہم نے ان کنونشنز کو کسی فورم پر ابھی تک موضوع نہیں بنایا ۔

کشن گنگا ڈیم سے پاکستان کو سالانہ 140 ملین ڈالر کا نقصان متوقع ہے لیکن یہ مسئلہ ہمارے قومی بیانیے میں کہیں جگہ نہیں بنا سکا ۔ یہاں یاروں کے مسائل ہی اور ہیں ۔ گندی سیاست کی شعبدہ بازی سے کوئی بلند ہو سکے تو ان مسائل پر غور کرے ۔ نیم خواندہ رہنما ، تماش بین عوام اور ڈگڈگی بجاتی سکرینیں ۔ آتش فشاں پہ بیٹھ کر بغلیں بجائی جا رہی ہیں ۔

آج کسی کو احساس تک نہیں لیکن یاد رکھیے، وہ وقت اب زیادہ دور نہیں جب آپ ہم سب کو معلوم ہو جائے گا کہ ہم پانی کے کس خوفناک بحران سے دوچار ہو چکے ہیں ۔ اس سماج کی غیر سنجیدگی اور کھلنڈرے پن سے اب خوف آ نے لگا ہے ۔ پانی کا خوفناک بحران ہماری دہلیز پر دستک دے رہا ہے۔

سن سکتے ہو تو سن لو ۔

current National Population of Cattle Breeds

Estimated current National Population of Cattle Breeds based on National Livestock Census 2006 and Economic Survey of Pakistan 2013-14 is given below:

Breeds

Population (Million)

Sahiwal. 3.69

Red Sindhi 4.07

Thari. 2.39

Bhag Nari. 1.38

Rojhan 0.51

Dhanni. 1.99

Kankraj. 0.36

Lohani. 0.75

Achai. 0.91

Gabralli. 0.31

Foreign/Cross Bred. 4.97

Others. 18.35

Slove Agri Pak!

Solve Agri Pak (Private) Limited appoints “Sufyan & Brothers” as our exclusive distributor for ABS Global semen and products in Multan division to efficiently distribute high quality dairy and beef genetics in the region. The main outlet located at Vehari Chowk Multan was inaugurated earlier today. For availability and supplies in Multan, Khanewal, Lodhran, Muzaffargarh, DG Khan and Rajanpur, Sufyan & Brothers may be coordinated at 0321-7327708.
Stay tuned as we are expanding to reach out all over. For any further details, contact Solve Agri Pak helpline 0304-1115566.

#ABS #SAPPL #Genetics #Dairy

Livestock Sector!

Being major player in the national economy, livestock sector is accepted as an economy engine for poverty alleviation in Pakistan. According to economic survey of Pakistan 2013-14, its contribution to agriculture value added is approximately 55.9 % and to national GDP is 11.8 % with Gross Value Addition of Rs. 776.5 billion (2013-14), showing an increase of 2.7 percent as compared to last year.

Livestock of Pakistan include cattle, buffalo, sheep, goat, camels, horses, asses and mules and they produce milk, meat, wool, hair, bones, fat, blood eggs, hides and skins among which milk and meet are the major products. Besides production, these animals are also used for draught purposes. As per IFCN (International Farms Comparison Network) Dairy Report 2014, Pakistan is 3rd largest milk producing country in the world. Milk is produced by buffalo, cattle, sheep, goat and camel but being major contributor in milk production, cattle and buffalo are considered as major dairy animals.

Buffalos found in Pakistan make up 47% of Pakistan’s major dairy animal’s population providing more than about 61% of the total milk produced in the country. Buffalo breeds found in Pakistan are Nili Ravi, Kundi and Aza Kheli. Nili Ravi is considered the best buffalo breed in world and known as Black Gold of Pakistan. Cattle constitute about 53% of the national population of major dairy animals in Pakistan and contribute the share of almost 35% to the total milk production in country. The cattle breeds found in the country are Sahiwal, Cholistani, Red Sndhi, Achai, Bhagnari, Dajal, Dhanni, Gibrali, Kankraj, Lohani, Rojhan, and Thari. Out of these, Sahiwal, Cholistani, and Red Sindhi are main dairy breeds and well known internationally due to their distinct characteristics. Other than well-defined cattle breeds, there are a large number of nondescript and crossbred cattle in this country. Over last ten years, the importance of crossbred animals has been increased due to start of the development in dairy sector on commercial lines. The crossbred animals are mostly preferred for commercial dairy farms due to their higher production. Mostly cross of local cows (like Sahiwal and Cholistani) with imported cows (like Holstein Friesian and Jersey) is demanded by such farms. Besides our local and crossbred animals, imported animals are also the part of dairy cow family of Pakistan. Corporate Dairy Farms prefer dairy animals from other countries and run their farms on most modern lines with international expertise. Almost 95% of imported dairy animals in Pakistan belong to Australia while other 5% from Sweden. The breeds of these imported animals are Holstein Friesian, Jersey and Freisian Jersey Cross. Within few months, American Cattle will also enjoy the four weathers of our country.

Sheep and goats are reared in rural areas but their main purpose is mutton production. The milk produced from these small ruminants is used domestically. Camel is the animal of nomads who raise this animal to sell on Eid ul Adha. The milk produced is used to meet the family needs. Some nomads also sell camel milk in urban areas and its demand is increasing day by day due to medicinal value. If we work on camel breeds, we can find camel as a good dairy animal.

More than 96% of the milk produced in Pakistan comes from cattle and buffalo. The rest of it is collectively produced by sheep, goat and camel which, most of the time, is not sold as such, rather consumed domestically or mixed with buffalo and cow milk.

Nikaah and Janaaza!

*Nikaah and janaaza…*
*نکاح اور جنازہ*

The _difference_ between a *wedding* and a *funeral* beautifully captured in a _poem_ called :
*farq sirf itna sa tha*

شادی اور جنازہ میں کیا فرق ہوتا ہے ۔ایک نظم میں خوبصورتی کا ساتھ منظر کشی کی گئی ہے ۔
*فرق صرف اتنا سا تھا*

teri *doli* uthi,
meri *mayyat* uthi,
تیری ڈولی اٹھی
میری میت اٹھی

phool _tujh_ par bhi barse,
phool _mujh_ par bhi barse,
*farq sirf itna sa tha….*

پھول تجھ پہ برسے،
پھول مجھ پر بھی برسے
فرق صرف اتنا سا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔

tu _saj_ gayi,
mujhe _sajaya_ gaya..
تو سج گئی
مجھے سجایا گیا

_tu_ bhi ghar ko chali,
_main_ bhi ghar ko chala,
*farq sirf itna sa tha….*
تو بھی گھر کو چلی
میں بھی گھر کو چلا
فرق صرف اتنا سا تھا

tu _uth_ ke gayi,
mujhe _uthaya_ gaya…
تو اٹھ کے گئی
مجھے اٹھایا گیا

*mehfil* wahan bhi thi,
*log* yahan bhi thay,
*farq sirf itna sa tha….*
محفل وہاں بھی تھی
لوگ یہاں بھی تھے
فرق صرف اتنا سا تھا

unka _hasna_ wahan,
inka _rona_ yahan…
ان کو ہنسنا وہاں
ان کو رونا یہاں

*qazi* udhar bhi tha,
*moulvi* idhar bhi tha,
قاضی ادھر بھی تھا
مولوی ادھر بھی تھا۔

do bol _tere_ padhe,
do bol _mere_ padhe,
tera *nikaah* padha,
mera *janaaza* padha,
*farq sirf itna sa tha…*
دو بول تیرے پڑھے
دو بول میرے پڑھے
تیرا نکاح پڑھا
میرا جنازہ پڑھا
فرق صرف اتنا سا تھا۔

tujhe *apnaya* gaya,
mujhe *dafnaaya* gaya…
Mout ki Fikar
Na karta tha”
تجھے اپنایا گیا
مجھے دفنایا گیا
موت کی فکر نہ کرتا تھا۔۔۔۔

Gunah ko Gunah
Na smajhta tha”
گناہ کو گناہ نہ سمجھتا تھا

DiL chahta tha k
Padhun Namaz”
دل چاہتا تھا کہ پڑھوں نماز

par Masjid tak
Jism na le jata tha”
پر مسجد تک، جسم نہ لے جاتا تھا۔

Duniya ki Ronaq
mein Magan tha”
دنیا کی رونق میں مگن تھا۔

Waqt Dosti me
Barbad krta tha”

وقت دوستی میں برباد کرتا تھا۔

Phir 1 Din achank
Andhera chaa giya”
پھر ایک دن اچانک اندھیرا چھا گیا

Aankh khuli to Khud
ko Qabar mein paya”
آنکھ کھلی تو خود کو قبر میں پایا

Phir ALLHA ne pucha
k kya le kr aaya”
پھر اللہ نے پوچھا، کہ کیا لے کر آیا۔

Ghar jana chaha
lekin ja na paya”
گھر جانا چاہا لیکن جا نہ پایا۔

Qabar ki Tanhai
ne bohat daraya”

قبر کی تنہائی نے بہت ڈرایا ۔

Aawaz di Apno ko
to koi na aaya”
آواز دی اپنوں کو تو کوئی نہ آیا
*WARNING*
Waqt hai sambhal ja?
وقت ہے سنبھل جا؟

Quran ka ek ruku rozana parhne se saal mein 3 Quran mukammal ho jate hain?

قرآن کا ایک رکوع روزانہ پڑھنے سے سال میں تین قرآن مکمل ہو جاتے ہیں ۔

Jb aap is msg ko 4wrd karne lagein gey to Shaitaan aap ko rokega ?
جب آپ اس پیغام کو آگے بھیجنے لگیں گے تو شیطان آپ کو روکے گا !

????????
Let’s C what will U do..
یہ سوالیہ نشان ہے …….؟

دیکھتے ہیں، آپ کیا کرتے ہیں ؟

======================