Love with Prophet Muhammad صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

Islam
Spread the love

شیخ الاسلام حضرت خواجہ قمر الدین سیالویؒ
غازی علم الدین شہیدؒ کی ملاقات کے لئے دو بار میانوالی جیل تشریف لے گئے ،
ایک بار شہادت سے پہلے اور دوسری بار جب قبر کشائی ہوئی اور شہید کے جسدِ اطہر کو لاہور میانی صاحب منتقل کیا گیا ،

حضرت خواجہ غلام فخر الدین سیالویؒ آنکھوں دیکھا حال بیان فرماتے ہیں کہ پہلی مرتبہ غازی صاحب کی کوشش تھی کہ سلاخوں کے پار دست بوسی میں پہل کریں

مگر حضور شیخ الاسلام حضرت خواجہ قمر الدین سیالویؒ نے سبقت فرمائی اور غازی صاحب کو اس عظیم اعزاز پر مبارک بھی دی ،
فرمایا کہ ارادہ میرا بھی یہی تھا مگر یہ سعادتِ عظمیٰ آپ کا مقدر تھی کہ آپ نے گستاخ راجپال کو جہنم رسید کیا ۔۔۔

یہ ملاقات جمعۃ المبارک کے دن ہو رہی تھی ،

دورانِ گفتگو حضور شیخ الاسلام حضرت خواجہ قمر الدین سیالویؒ نے استفسار فرمایا کہ غازی صاحب !
اس کارنامے سے پہلے کے احوال اور بعد کے احوال میں کیا فرق محسوس کرتے ہیں ؟

غازی صاحب نے جواباً فرمایا کہ حضور میں نے تین فرق محسوس کئے ہیں،

نمبر ایک
یہ کہ مجھے جیل کی کوٹھڑی میں دن کی روشنی میں جاگتی آنکھوں کے ساتھ روزانہ رسولِ کریم رؤف و رحیم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زیارت عطا ہوتی ہے

نمبر دو
یہ کہ پہلے میں ایک کم پڑھا لکھا مزدور آدمی تھا مگر اب جیل میں مجھے الحمد سے والناس تک ازبر عطا ہو گیا ہے

نمبر تین
یہ کہ پرسوں اتوار کے دن جو میری پھانسی کا اعلان کیا گیا ہے یہ ناممکن ہے
کیونکہ مجھے میرے آقا کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خوشخبری عطا فرمائی ہے کہ علم الدین !
ہم خمیس (جمعرات) کو تمہارا استقبال کریں گے ،

یہ کہتے ہوئے غازی صاحب کا چہرہ مزید دمک اٹھا اور ایک شگفتہ سی مسکراہٹ لبوں پر پھیل گئی۔۔۔

اور پھر ایسا ہی ہوا کہ انگریز نے ملک گیر بھرپور احتجاج کے باعث اتوار والی پھانسی کو ملتوی کیا اور جمعرات کو غیر اعلانیہ عملدرآمد کیا گیا اور میانوالی جیل کے احاطے میں امانۃً تدفین ہوئی ۔۔۔

حضرت خواجہ فخر الدین سیالویؒ نے مزید فرمایا کہ جب قبر کشائی کے موقع پر ہم حضور شیخ الاسلام حضرت خواجہ قمر الدین سیالویؒ کے ہمراہ دوبارہ زیارت کے لئے پہنچے تو انگریز ڈاکٹروں کی زیرِ نگرانی قبر کشائی ہو رہی تھی
اور ڈاکٹروں نے نہ جانے کیا سوچ کر اپنے چہروں پر ماسک چڑھا رکھے تھے

مگر بہت جلد انہوں نے ماسک اتارنے شروع کر دیئے ۔۔

ایک عجیب سی خوشبو تھی کہ امڈی آ رہی تھی ۔۔۔
مٹی کو ہاتھوں میں لے لے کر سونگھ رہے تھے اور ششدر و حیران تھے کہ یہ نہ گلاب ہے نہ چنبیلی ، نہ مشک ہے نہ عنبر ، یہ نہ جانے کس جہان کی خوشبو ہے ؟

اور پھر شہید کا چہرہ تھا کہ حیاتِ نو حیاتِ جاوداں کا مظہر، تر و تازہ اور منور۔
سبحان اللہ

اللہ تعالٰی تمام مسلمانوں کو نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ و سلم کی محبت میں اپنا تن من دھن قربان کرنے کی توفیق عطا فرمائے

آمین ثم آمین یا رب العالمین