ایران اور امریکہ کے درمیان دوسرے مرحلے کے مذاکرات ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بن گئے ہیں، جہاں دونوں ممالک کشیدگی کم کرنے، جوہری پروگرام، پابندیوں اور علاقائی سلامتی جیسے اہم معاملات پر بات چیت کر رہے ہیں۔ یہ مذاکرات نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ پوری دنیا کی سیاسی و معاشی صورتحال پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔
پاکستان اس صورتحال میں ایک اہم اور متوازن کردار ادا کر سکتا ہے، کیونکہ پاکستان کے ایران اور امریکہ دونوں کے ساتھ سفارتی تعلقات موجود ہیں۔ پاکستان ہمیشہ خطے میں امن، مذاکرات اور تنازعات کے پرامن حل کا حامی رہا ہے، اسی لیے اس پیش رفت کو اسلام آباد میں مثبت نظر سے دیکھا جا رہا ہے۔
اگر ایران اور امریکہ کے تعلقات میں بہتری آتی ہے تو اس سے پاکستان کو بھی معاشی فوائد حاصل ہو سکتے ہیں، خاص طور پر سرحدی تجارت، توانائی منصوبوں اور علاقائی روابط کے فروغ میں مدد مل سکتی ہے۔ ایران پاکستان گیس پائپ لائن جیسے منصوبے بھی دوبارہ توجہ حاصل کر سکتے ہیں۔
عالمی سطح پر کشیدگی میں کمی سے تیل کی قیمتوں میں استحکام آنے کا امکان ہے، جس کا براہِ راست فائدہ پاکستان جیسے درآمدی ممالک کو ہوگا۔ مہنگائی میں کمی اور معاشی دباؤ میں نرمی پاکستان کے لیے ایک مثبت پیش رفت ثابت ہو سکتی ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر یہ مذاکرات کامیاب ہوتے ہیں تو نہ صرف مشرقِ وسطیٰ میں امن کے امکانات روشن ہوں گے بلکہ پاکستان سمیت پورے خطے میں اقتصادی سرگرمیوں اور سرمایہ کاری کے نئے دروازے بھی کھل سکتے ہیں۔